Tuesday, 2017-09-26, 11:51 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 22
Main » 2012 » July » 3 » Ankhon ko badalny ki riwayat nahi seki
6:44 PM
Ankhon ko badalny ki riwayat nahi seki
آنکھوں کو بدلنے کی روایت نہیں سیکھی
ھاں،ھم نےزمانے کی یہ عادت نہیں سیکھی

یہ جان کی بازی ھے یوں،چُپ چاپ نہ ھارو
تم نے بھی محبت میں بغاوت نہیں سیکھی

اُس کو بھی عداوت کا سلیقہ نہیں آیا
اور ھم نے بھی لگتا ھے محبت نہیں سیکھی

ساحل سے سمندر کا سکوں سیکھا ھے ھم نے
موجوں سے وہ لپٹی ھوئی وحشت نہیں سیکھی

آتے ھوئے جھونکوں سے اُلجھتے رہے اکثر
جاتے ھوئے لمحوں سے شکایت نہیں سیکھی

تم سے یہ کہا بھی تھا انا ھم سے نہ چھینو
اور تم نے رویئے میں،رعایت نہیں سیکھی

ھم پچھلی صفوں پر ہی کھڑے رہ گئے آخر
شہرت کو کمایا تو ھے شہرت نہیں سیکھی

ھاں درد چُھپانے کا قرینہ بھی تھا مشکل
پلکوں پہ جو جم جاتی ھے حیرت نہیں سیکھی
Category: غزلیات | Views: 290 | Added by: Crescent | Rating: 0.0/0
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2017