Saturday, 2017-11-18, 7:42 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 22
Main » 2012 » May » 12 » Ay dil walo ghar se neklo daita dawat e aam hy chand
7:36 PM
Ay dil walo ghar se neklo daita dawat e aam hy chand
اے دل والو گھر سے نکلو، دیتا دعوتِ عام ہے چاند
شہروں شہروں، قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند

تو بھی ہرے دریچے والی، آ جا بر سر ِبام ہے چاند
ہر کوئی جگ میں خود سا ڈھونڈے، تجھ بن بسے آرام ہے چاند

سکھیوں سے کب سکھیاں اپنے جی کے بھید چھپاتی ہیں
ہم سے نہیں تو اس سے کہہ دے، کرتا کہاں کلام ہے چاند

جس جس سے اسے ربط رہا ہے اور بھی لوگ ہزاروں ہیں
ایک تجھ ہی کو بے مہری کا دیتا کیوں الزام ہے چاند

وہ جو تیرا داغ ِغلامی ماتھے پر لئے پھرتا ہے
اس کا نام تو انشا ٹھہرا، ناحق کو بدنام ہے چاند

ہم سے بھی دو باتیں کر لے کیسی بھیگی شام ہے چاند
سب کچھ سن لے آپ نہ بولے، تیرا خوب نظام ہے چاند

ہم اس لمبے چوڑے گھر میں شب کو تنہا ہوتے ہیں
دیکھ کسی دن آ مل ہم سے، ہم کو تجھ سے کام ہے چاند

اپنے تو دل کے مشرق و مغرب اس کے رخ سے منوّر ہیں
بے شک تیرا روپ بھی کامل، بے شک تو بھی تمام ہے چاند

تجھ کو تو ہر شام فلک پر گھٹتا بھڑتا دیکھتے ہیں
اس کو دیکھ کے عید کریں گے، اپنا اور اسلام ہے چاند

ابن ِانشا
Category: غزلیات | Views: 223 | Added by: Crescent | Rating: 0.0/0
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2017