Sunday, 2017-11-19, 12:30 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 22
Main » 2012 » August » 23 » Hawa ke sath darakhton ke rabty te buht
3:31 PM
Hawa ke sath darakhton ke rabty te buht

ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت
تھا عکسِ ذات فقط ایک‘ آئینے تھے بہت

تمہارے بعد تو سنسان ہو گیا ہے شہر
عجیب دن تھے وہ‘ تم تھے تو رتجگے تھے بہت

ہمیں نے ترکِ مراسم کی راہ اپنا لی
یہ اور بات تعلق کے راستے تھے بہت

سحر سے مانگ رہے ہیں وہ عکس خواب و خیال
چراغِ شوق جلا کر جو سوچتے تھے بہت

چھلک اُٹھے ہیں مرے صبر کے تموج سے
رفاقتوں کے جو دریا اُتر گئے تھے بہت

تھا جلوہ ریز مری خلوتوں میں اور کوئی
یہ جب کی بات ہے‘ جب تم نے خط لکھے تھے بہت

وہ تم نہیں تھے مگر ہوبہو وہ تم سا تھا
اس اعتبار پہ کل رات بھی ہنسے تھے بہت

لبوں پہ حرفِ صدا برف ہو گئے احمد
طلوعِ مہر سے پہلے تو حوصلے تھے بہت
Views: 197 | Added by: Crescent | Tags: ghazals, Urdu poetry | Rating: 0.0/0
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2017