Sunday, 2017-09-24, 5:21 AM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 22
Main » 2012 » March » 29 » Hum apne khwaab keaeu bechain
10:32 PM
Hum apne khwaab keaeu bechain
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

فقیرانہ روش رکھتے تھے

لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے

کہ اپنے خواب بیچیں

ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے

لیکن روکشِ بازار کب تھے

ہمارے ہاتھ خالی تھے

مگر ایسا نہیں پھر بھی

کہ ہم اپنی دریدہ دامنی

الفاظ کے جگنو

لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے

خواب لے لو خواب لوگو

اتنے کم پندار ہم کب تھے

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں

ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں

کہ جن کی عاشقی میں

اور ہوا خواہی میں

ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں

چلو ہم بے‌نوا

محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے

پر اپنے آسماں کی داستانیں

اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں

خریدارو!

تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو

ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو

تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو

مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس

اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں

ہمارے خواب بے ‌وقعت سہی

تعبیر سے عاری سہی

پر دل ‌زدوں کے خواب ہی تو ہیں

نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں

کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے

نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں

تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے

نہ یہ ان آمروں کے خواب

جو بے ‌آسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں

نہ یہ غارت‌ گروں کے خواب

جو اوروں کے خوابوں کو تہہِ شمشیر کر جائیں

ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں

حرف و نوا کے خواب ہیں

مہجور دروازوں کے خواب

محصور آوازوں کے خواب

اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟
Category: نظمیں | Views: 262 | Added by: Crescent | Rating: 0.0/0
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2017