Monday, 2019-06-24, 6:02 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 23
Main » 2012 » March » 29
کب تک تو اونچی آواز میں بولے گا
تیری خاطر کون دریچہ کھولے گا

اپنے آنسو اپنی آنکھ میں رہنے دے
ریت پہ کب تک ہیرے موتی رولے گا

آؤ شہر کی روشنیاں ہی دیکھ آئیں
کون ہماری خالی جیب ٹٹولے گا

لاکھ میرے ہونٹوں پر چُپ کی موہریں ہوں
میرے اندر کا فنکار تو بولے گا

دیکھ وہ اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے
اپنا سارا زہر تجھ ہی میں گھولے گا

اے سوداگر چاہت کی جاگیروں کے
کس میزان میں تو اس جنس کو تولے گا

محسن اس کی نرم طبیعت کہتی ہے
پل دو پل وہ میرے ساتھ بھی ہولے گا

محسن نقوی
Category: غزلیات | Views: 483 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
میرے آس پاس کنول کھلیں

کبھی گنگناؤ تو اس طرح
میرا درد پھر سے غزل بنے

کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اُٹھیں

کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
!نہ سسک سکیں نہ بلک سکیں۔۔۔
Category: نظمیں | Views: 382 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

فقیرانہ روش رکھتے تھے

لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے

کہ اپنے خواب بیچیں

ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے

لیکن روکشِ بازار کب تھے

ہمارے ہاتھ خالی تھے

مگر ایسا نہیں پھر بھی

کہ ہم اپنی دریدہ دامنی

الفاظ کے جگنو

لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے

خواب لے لو خواب لوگو

اتنے کم پندار ہم کب تھے

ہم اپنے خواب کیوں بیچیں

کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں

ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں

کہ جن کی عاشقی میں

اور ہوا خواہی میں

ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں

چلو ہم بے‌نوا

محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے

پر اپنے آسماں کی داستانیں

اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں

خریدارو!

تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو

ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو

تم ایسے دام تو ہر ... Read more »
Category: نظمیں | Views: 446 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

ہمیں کوئی غم نہیں تھا، غم ِعاشقی سے پہلے
نہ تھی دشمنی کسی سے، تیری دوستی سے پہلے

ہے یہ میری بد نصیبی، تیرا کیا قصور اس میں
تیرے غم نے مار ڈالا، مجھے زندگی سے پہلے

میرا پیار جل رہا ہے، اے چاند آج چھپ جا
کبھی پیار تھا ہمیں بھی، تیری چاندنی سے پہلے

میں کبھی نہ مسکراتا، جو مجھے یہ علم ہوتا
کے ہزار غم ملیں گے، مجھے ایک خوشی سے پہلے

یہ عجیب امتحان ہے، کہ تم ہی کو بھولنا ہے
ملے کب تھے اس طرح ہم، تمہیں بے دلی سے پہلے
Category: غزلیات | Views: 412 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

وفا،اخلاص،قربانی محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم

سنادیں عصمتِ مریم کا قصہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم

زلیخا سے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم

ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم

کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفاکیوں کریں ہم

اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری
فقط کمرے میں ٹہلا کیوں کریں ہم

جو اک نسلِ فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم

نہیں دنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دنیا کی پرواکیوں کریں ہم

ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم

چبالیں خود ہی کیوں نہ اپنا ڈھانچہ
تمہیں راتیں مہیا کیوں کریں ہم

پڑی رہنے دو انسانوں ... Read more »
Category: غزلیات | Views: 467 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

ہر مسرّت غم دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا

اَن گِنت محفلیں محروم ِچراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا

آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا

جن سے افسانہ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
ان محبّت کی روایات نے دم توڑ دیا

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر

Category: غزلیات | Views: 451 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

محبتوں میں ہوس کی اسیر ہم بھی نہیں
غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں

نہیں ہو تم بھی قیامت کی تند و تیز ہوا!!
کسی کے نقشِ قدم کی لکیر ہم بھی نہیں

ہماری ڈوبتی نبضوں سے زندگی تو نہ مانگ
سخی تو ہیں مگراتنے امیر ہم بھی نہیں

کرم کی بھیک نہ دے اپنا تخت بخت سنبھال
ضرورتوں کا خدا تُو،فقیر ہم بھی نہیں

شبِ سیاہ کے "مہمان دار" ٹھہرے ہیں
وَگرنہ تیرگیوں کے سفیر ہم بھی نہیں

ہمیں بُجھا دے ہماری انا کو قتل نہ کر
کہ بے ضرر ہی سہی،بے ضمیر ہم بھی نہیں

محسن نقوی
Category: غزلیات | Views: 443 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

جاہ کی خواہشِ بے فیض پر مرنے والے
کسی انسان کی عزت نہیں کرنے والے

وہی اب شہر کی نظروں میں شناور ٹھہرے
لبِ دریا جو کھڑے تھے کئی ڈرنے والے

کس قدر خواب میں ابھی شعر بنانے ہیں ہمیں
کتنے خاکوں میں ابھی رنگ ہیں بھرنے والے

وقت پر زور نہیں عمر چلی جاتی ہے
سینکڑوں کام پڑے ہیں ابھی کرنے والے

بھول ہوگی تو اُسے دل سے کریں گے تسلیم
ہم نہیں دوش کسی اور پر دھرنے والے

دیکھ لے آنکھ اٹھا کرہمیں اے سیلِ ہوس
نہیں اس شہر کے سب لوگ بکھرنے والے

پیار بٹنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا امجد
دل کے دریا تو نہیں ہوتے کبھی اترنے والے

امجد اسلام مجد
Category: غزلیات | Views: 425 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

غمِ ہجراں میں اپنی یہ بھی حالت کون کرتا ہے
بھلا اِس عہد میں ایسی محبت کون کرتا ہے


جو دل میں ہو وہی اپنی زباں سے بھی بیاں کرنا
سوا میرے یہاں ایسی جسارت کون کرتا ہے


عَلم سچ کا کھل گیا یہ راز مجھ پر بھی
منافق عہد میں سچ کی حمایت کون کرتا ہے


ہر اک کو دوسرے کی چاک دامانی نظر آئے
گریباں دیکھ لے اپنا،یہ زحمت کون کرتا ہے


اُدھر اُن کےستم اتنے کہ جن کی حد نہیں کوئی
اِدھر بھی ظرف والے ہیں شکایت کون کرتا ہے


زمانہ مجھ سے لوگوں کے لئے مقتل ہوالالی
پرایا ہو کہ اپنا ہو،رعایت کون کرتا ہے
Category: غزلیات | Views: 833 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (1)

بہار رُت میں اُجاڑ رستے تکا کرو گے تو رو پڑو گے
کسی سے ملنے کو جب بھی سجا کرو گے تو رو پڑو گے


تمہارے وعدوں نے یار مجھ کو تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے
کہ زندگی میں جو پھر کسی سے دغا کرو گے تو رو پڑو گے


میں جانتا ہوں میری محبت اُجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسے
کہ چاند راتوں میں اب کسی سے ملا کرو گے تو رو پڑو گے
Category: قطعات | Views: 436 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

میرے چارہ گر
میرے درد کی تجھے کیا خبر
تو میرے سفر کا شریک ہے
نہیں ہم سفر؟

میرے چارہ گر،میری چارہ گر
میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
....کئی موسموں میں بدل گیا

اسے ناپتے اسے کاٹتے
...میرا سارا وقت نکل گیا
نہیں جس پہ کوئی بھی نقشِ پا
میرے سامنے ہے
!!!....وہ رہ گز

میرے چارہ گر،میرے چارہ گر
!میرے درد کی تجھے کیا خبر

یہ جو ریگ دشت فراق ہے
میرے راستے میں بچھی ہوئی
...کسی موڑ پہ یہ رُکے کہیں

یہ جو رات ہے میرے چار سو
...مگر اس کی کوئی سحر نہیں
...نہ چھاوںہے نہ ثمر کوئی
میں نے چھان دیکھا شجر شجر
میرے چارہ گر،میرے چارہ گر

!!!میرے درد کی تجھے کیا خبر
Category: نظمیں | Views: 384 | Added by: Crescent | Date: 2012-03-29 | Comments (0)

Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2019