Monday, 2019-06-24, 6:22 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 23
Main » غزلیات
1 2 3 ... 30 31 »
اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی
اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی

کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئنہ، اسے کیا خبر
کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی

میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل
سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب مری نگاہ دھری رہی

سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا
مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی

وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے
کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی

ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اڑا چکے
وہی چاک پیرہنی رہا وہی خوئے دربدری رہی

وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں
وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی

خالد علیم
Category: غزلیات | Views: 520 | Added by: Crescent | Date: 2012-08-20 | Comments (0)

دل میں وفا کی ہے طلب، لب پہ سوال بھی نہیں
ہم ہیں حصارِ درد میں ، اُس کو خیال بھی نہیں

اتنا ہے اس سے رابطہ، چھاؤں سے جو ہے دھوپ کا
یہ جو نہیں ہے ہجر تو پھر یہ وصال بھی نہیں

وہ جو انا پرست ہے ، میں بھی وفا پرست ہوں
اُس کی مثال بھی نہیں ، میری مثال بھی نہیں

عہدِوصالِ یار کی تجھ میں نہاں ہیں دھڑ کنیں
موجۂ خون احتیاط! خود کو اُچھال بھی نہیں

تم کو زبان دے چکے ، دل کا جہان دے چکے
عہدِوفا کو توڑ دیں ، اپنی مجال بھی نہیں

اُس سے کہو کہ دو گھڑ ی، ہم سے وہ آملے کبھی
مانا! یہ ہے محال پر، اتنا محال بھی نہیں

آصف شفیع
Category: غزلیات | Views: 481 | Added by: Crescent | Date: 2012-08-20 | Comments (0)

Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2019