Tuesday, 2019-11-19, 5:19 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 24
Main » 2012 » January » 23 » محبت کے چراغوں کو ہوا کیسے بُجھائے گی۔۔۔۔!!!
5:17 PM
محبت کے چراغوں کو ہوا کیسے بُجھائے گی۔۔۔۔!!!
محبت کے چراغوں کو ہوا کیسے بُجھائے گی۔۔۔۔!!!

محبت کے چراغوں ہوا کیسے بُجھائے گی،،،!
ہوا پرُ زور ہے،پُر شور ہے،منہ زور ہے لیکن
ہوا چالاک ہے سفاک ہے بے باک ہے لیکن
ہوا یلغار ہے،آزار ہے،تلوار ہے لیکن
ہوا بے مہر وحشی لہر ہے،پُر قہر ہے لیکن
محبت کے چراغوں ہوا کیسے بُجھائے گی،،،!


جو خالق ہے محبت کا،جو حافظ ہے محبت کا
جو ضامن ہے محبت کا،وہی مالک ہوا کا ہے
تو پھر کیسے ہوا کو سرکشی کرنے کا یارا ہو
محبت کے چراغوں ہوا کیسے بُجھائے گی،،،!


چلو عہدِ گزشتہ کے حوالے سامنے رکھ کر
نتیجے پر پہنچتے ہیں
اگر اب تک نہیں سمجھے
تو اِس طرح سمجھتے ہیں
ہمیں تاریخ کے البم سے اِک تصویر ملتی ہے
کہ دریا جس کا غصہ پل میں کشتی کو ڈبوتا ہے
اشارہ پا کے خالق کا
کسی جانباز کے کچے گھڑے کو
گود میں لے کر
کنارے تک بھی لاتاہے
یہی قدرت کا سکہ ہے
جو ہر شے پر چلتاہے
تو جانِ جاں اگر اپنی محبت بھی
وصالِ جسم و جاں کی
عارضی راحت سے برترہے
بدن کے قرب سے
آگے بہت آگے کی منزل ہے
یہ اک انمول رشتہ ہے
یہ دو روحوں کا بندھن ہے
تو پھر وحشی ہوا فطرت کی مرضی اور منشا پر
فقط مبہم اشارے سے بدل کر اپنی فطرت کو
محبت کے چراغوں کی حفاظت خود ہی کر لے گی
محبت کے چراغوں ہوا کیسے بُجھائے گی
Category: نظمیں | Views: 589 | Added by: Crescent | Rating: 3.0/2
Total comments: 2
0 Spam
1 captain  
great........................ smile

1 Spam
2 Crescent  
thankx

Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2019