Tuesday, 2019-11-19, 4:27 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 24
Main » 2012 » January » 30 » کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے
5:32 PM
کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے
کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے
دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے

اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں
نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے

اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر
ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے

سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ
وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے

یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب
اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے

یوں نہ گھبراۓ ہوۓ پھرتے تھے
دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے

اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن
اس قدر دور کہاں تھا پہلے

ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں
اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے

اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ
کیا خبر کون کہاں تھا پہلے

ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے
میں بھی آباد مکاں تھا پہلے

اُڑ گۓ شاخ سے یہ کہہ کے طیور
سرو ایک شوخ جواں تھا پہلے

کیا سے کیا ہو گئی دنیا پیارے
تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے

ہم نے آباد کیا ملکِ سخن
کیسا سنسان سماں تھا پہلے

ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں
درد مجبورِ فغاں تھا پہلے

ہم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق
شعلہ پتھّر میں نہاں تھا پہلے

ہم نے روشن کیا معمورۂ غم
ورنہ ہر سمت دھواں تھا پہلے

ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار
عطرِ گل صرفِ خزاں تھا پہلے

غم نے پھر دل کو جگایا ناصر
خانہ برباد کہاں تھا پہلے

Category: غزلیات | Views: 440 | Added by: Crescent | Rating: 0.0/0
Total comments: 0
Only registered users can add comments.
[ Registration | Login ]
Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2019