Tuesday, 2019-11-19, 5:23 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 24
Main » 2012 » January » 30
جاگتی رات کی آنکھوں پہ فسانے جیسے
ایک پل میں سمٹ آئے ہوں زمانے جیسے
عقل کہتی ہے بھُلا دو جو نہیں مل پایا
دل وہ پاگل کہ کوئی بات نہ مانے جیسے
راستے میں وہی منظر ہیں پُرانے اب تک
بس کمی ہے تو نہیں لوگ پُرانے جیسے
آئینہ دیکھ کے احساس یہی ہوتا ہے
لے گیا وقت ہو عُمروں کے خزانے جیسے
رات کی آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو شبنم
مخملی گھاس پہ موتی کے ہوں دانے جیسے
بیٹھے ہیں شام کی دہلیز پہ اک آس لیے
کوئی آئے گا ہم کو بھی منانے جیسے

Category: غزلیات | Views: 515 | Added by: Crescent | Date: 2012-01-30 | Comments (0)

کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے
دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے

اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں
نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے

اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر
ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے

سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ
وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے

یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب
اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے

یوں نہ گھبراۓ ہوۓ پھرتے تھے
دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے

اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن
اس قدر دور کہاں تھا پہلے

ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں
اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے

اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ
کیا خبر کون کہاں تھا پہلے

ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے
میں بھی آباد مکاں تھا پہلے

اُڑ گۓ شاخ سے یہ کہہ کے طیور
سرو ایک شوخ جواں تھا پہلے

کیا سے کیا ہو گئی دنیا پیارے
تو وہیں پر ہے جہاں تھا پہلے

ہم نے آباد کیا ملکِ سخن
کیسا سنسان سماں تھا پہلے

ہم نے بخشی ہے خموشی کو زباں
درد مجبورِ فغاں تھا پہلے

ہم نے ... Read more »
Category: غزلیات | Views: 440 | Added by: Crescent | Date: 2012-01-30 | Comments (0)

Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2019