Monday, 2019-06-24, 6:05 PM
TEHREER
The Place of Entertainment and knowledge
Welcome Guest | RSS
Site menu
Categories
غزلیاتنظمیں
منتخب اشعارقطعات
Quotationsانتخاب
Entries archive
Recent Blogs-->
Recent Comments-->
thnx inam

hahahah

Thnx inam

hahah nice

thnx inam

Our poll
Rate my site
Total of answers: 23
Main » 2012 » June » 02
محبت کچھ نہیں دیتی
سوائے خامشی کے
جو رگوں میں بہتی رہتی ہے
سوائے ایک ویرانی
جو دل پہ چھائی رہتی ہے
سوائے درد رسوائی
جو چاروں سمت ہوتا ہے
سوائے ایک اذیت
جو ساری عمر رہتی ہے
ہم اپنا سر اٹھا کر چل نہیں سکتے
گناہ کرتے نہیں
پھر بھی گنھگاروں میں شامل ہیں
روایت کے اسیروں کو
محبت کچھ نہیں دیتی
Category: نظمیں | Views: 289 | Added by: Crescent | Date: 2012-06-03 | Comments (0)

وہی ہوا نا


کہا نہیں تھا کہ عہد الفت،سمجھ کے باندھو
نبھا سکو گے؟
مجھے سمے کی تمازتوں سے
بچا سکو گے؟
بہت کہا تھا
صباحتوں میں بہل نہ جانا
مجھے گرا کے سنبھل نہ جانا
بدلتی رت میں بدل نہ جانا
بہت کہا تھا
بہل گئے نا
کہا نہیں تھا
سنبھل گئے نا
وہی ہوا نا
بدل گئے نا
Category: نظمیں | Views: 287 | Added by: Crescent | Date: 2012-06-03 | Comments (0)

درد کا کمرہ الگ ہوتا ہے

درد کا کمرہ الگ ہوتا ہے
ہم کہ جب بھی کسی بھولی ہوئی دہلیز سے ٹھوکر کھائیں
درد کے کمرے میں جا گرتے ہیں
نت نئے دھوکے میں مصروف رکھا خود کو
ہم سمجھدار بھی، پاگل بھی بنے ہیں اکثر
ہم ہنسے بھی ہیں، اداسی بھی بہت جھیلی ہے
عشق کے شک میں بتائے ہیں بہت دن ہم نے
دل کو جھانسے بھی دیے روز بہت رونق کے
روح کو رنگ دیے ہیں لیکن
وہ جو آنسو کبھی آباد ہوا تھا نا نصیبوں کی کسی بستی میں
کھینچ لاتا رہا واپس اسی کمرے میں ہمیں
یہ الگ کمرہ کسی کھوہ کی مانند بہت گہرا ہے
اک عجب رنگ کی خاموشی ہے دیواروں پر
کو نوں کھدروں میں بہت شور ہیں لاچاری کے
فرش پر ہجر کا غالیچہ بچھا رہتا ہے
چھت پہ جالے سے لگے ہیں کسی بیماری کے
صحن کے دکھ کی طرف ۔۔۔۔۔۔
مین دروازے کے ڈر کی جانب ۔۔۔۔
درد کا کمرہ الگ ہوتا ہے
ہم جہاں آتے ہیں
کمرہ بھی چلا آتا ہے
ہم چلے جائیں تو
کمرہ بھی چلا ... Read more »
Category: نظمیں | Views: 356 | Added by: Crescent | Date: 2012-06-03 | Comments (0)

میرے چاہنے والو


چشمِ نم کو روتے ہو؟
میری وحشتیں تم پر کیوں گراں گزرتی ہیں؟
میرے رنج و غم پر تم
کیوں اداس رہتے ہو؟
کیوں سوال کرتے ہو؟
میرے چاہنے والو !
کبھی ویران آنکھوں کا خواب بن کے دیکھا ہے؟
یاد میں ڈھلے ہو تم؟
کسی کے خشک ہونٹوں کی کانپتی دعاؤں میں
صد ہا برس رہ کر
خاک میں ملے ہو تم؟
سائبان کھویا ہے؟
دھوپ میں جلے ہو تم؟
زندگی کا حاصل جو پیار تم نے پایا تھا
نفرتوں میں بدلا ہے؟
دوستی کے پردے میں ملنے والے دشمن کے،
ہاتھ سے لٹے ہو تم؟
میرے چاہنے والو !
اُن ویران آنکھوں کا خواب تو بنو پہلے
یاد میں ڈھلو پہلے
مہربان آنکھوں کی
نفرتوں کو سہہ جاؤ،
خاک میں ملو پہلے
پھر تمہیں خبر ہوگی
میری وحشتیں کتنی
تلخ اک حقیقت ہیں
چشمِ تر کے آنسو بھی
گردشِ زمانہ کے درد کی امانت ہیں
درد تو سہو پہلے
پھر تمہیں خبر ہوگی
میرے چاہنے والو
... Read more »
Category: نظمیں | Views: 309 | Added by: Crescent | Date: 2012-06-03 | Comments (0)

Search
Login In
Recent Posts-->
Popular Threads-->
Recent Photos-->
Poetry blog
Copyright Tehreer © 2019